میں بہت پریشان ہوں۔۔!! میرا بیٹا اکثر مجھ سے کیا پوچھتا ہے؟ پاک فوج کی باہمت خاتون افسر ’ میجر سامعہ ‘ نے انتہائی جذباتی پیغام جاری کر دیا

کانگو ( نیوز ڈیسک ) اقوام متحدہ امن فوج کا حصہ پاک فوج کی باہمت میجر سامعہ کورونا سے لڑنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ میجر سامعہ افریقی ملک کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کا حصہ ہیں ان کی ڈیوٹی اپریل میں ختم ہو رہی تھی جس کے باعث وہ وطن واپس نہ ہو سکیں۔ سامعہ نے ایک پیغام میں کہا کہ میرا 2 سال کا بیٹا پوچھ رہا ہے

کہ ماں کب آؤ گی انہوں نے کہا کہ میں پریشان ہوں تاہم جنون کئی گناہ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مل کر کورونا کو روک سکتے ہیں۔ واضح رہے کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں خدمات پیش کرنے والی پاک فوج نے کانگو میں سیلاب کے دوران 2 ہزار لوگوں کو بچا لیا ۔

اب اقوامِ متحدہ نے بھی میجر سامعہ کے عزم کا اعتراف کیا ہے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔میجر سامعہ کی کہانی نے عالمی توجہ اس وقت اپنی جانب راغب کی جب اقوام متحدہ کے امن مشن نے ان کی تصویر کو اپنے ٹویٹر ہینڈل پر شائع کیا جس کا عنوان تھا ’یوم امن کا ساتھی‘۔

جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کے مشن سے متعلق آپریشنل پلاننگ آفیسر میجر سامعہ کو 6 اپریل کو پاکستان واپس آنا تھا لیکن کورونا وائرس پھیل جانے کے باعث بین الاقوامی پروازوں کی معطلی کی وجہ سے وہ واپس نہیں پہچن سکیں۔

اقوام متحدہ نے میجر سامعہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے ایک امن کے سپاہی کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کے حصول میں اپنے دو سالہ چھوٹے بچے کو بھی گھر میں چھوڑدیا۔

آئی ایس پی کے مطابق کانگو میں سیلاب کے دوران 75 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا۔ اقوام متحدہ کا حصہ پاکستانی بلیو ہیلمٹ ٹیم فوری طور پر کانگو کے متاثرہ علاقوں میں امداد کے لئے روانہ ہوئی اور 2 ہزار لوگوں کی جان بچانے کے ساتھ ساتھ انہیں امداد بھی فراہم کی۔

آئی ایس پی آر کے علامیے میں کہا گیا ہے کہ سیلابی پانی کو روکنے کیلئے رکاوٹ تعمیر کرکے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ۔سیلاب سے متاثر افراد کو کھانا اور طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ جس کا اعتراف اقوام متحدہ کی جانب سے بھی کیا گیا ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*